Category

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

منگل، 29 اپریل، 2014

گوگل :

by Unknown  |  at  2:05 AM

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی فائنل میں سری لنکا کی شاندار فتح

by Unknown  |  in Games at  12:50 AM

 کارا کا یہ ٹی ٹوئنٹی کا آخرسنگای میچ تھا
سری لنکا نے ٹی ٹوئنٹی کے عالمی کرکٹ مقابلوں کے فائنل میں بھارت کوچھ وکٹوں سے شکست دے کر پہلی مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔


سری لنکا کو یہ میچ جیتنے کے لیے 131 رن درکار تھے جو اس نے باآسانی چار وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیے۔
سری لنکا کی فتح میں اہم کردار اپنے کریئر کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے والے تجربہ کار کمارا سنگاکارا نے نصف سنچری بنا کر ادا کیا۔ انھیں فائنل میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔
بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کو مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ بھارت نے اس ٹورنامنٹ میں چھ میچ کھیلے اور انھوں نے ان میں سے چار میں نصف سنچریاں سکور کئیں۔ فائنل میں بھی انھوں نے سب سے زیادہ 77 رنز بنائے اور آخری گیند پر رن آؤٹ ہوئے۔
بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ کے شیرِ بنگلہ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والا میچ بارش کی وجہ سے تاخیر سے شروع ہوا۔
اس میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو اس نے ویراٹ کوہلی ایک اور شاندار اننگز کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 130 رنز بنائے۔
کوہلی نےٹورنامنٹ میں ایک اور نصف سنچری بنائی۔ وہ 58 گیندوں پر پانچ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 77 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔
انھوں نے پہلے روہت شرما اور پھر یوراج سنگھ کے ساتھ مل کر دو اہم شراکتیں قائم کیں۔
کوہلی کے علاوہ روہت شرما نے 29 رنز کی اہم اننگز کھیلی تاہم یوراج سنگھ امیدوں پر پورا نہ اتر سکے اور 21 گیندوں پر 11 رنز ہی بنا سکے۔
ایک موقع پر لگتا تھا کہ بھارت ایک بڑا سکور بنانے میں کامیاب رہے گا لیکن آخری تین اوورز میں بھارتی بلے باز صرف 16 رنز ہی بنا پائے۔
سری لنکا کی جانب سے میتھیوز، ہیراتھ اور کلاسیکرا نے ایک ایک وکٹ لی۔
جواب میں سری لنکا کو ابتدا میں ہی کوشل پریرا کی وکٹ کی شکل میں نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے اس کی وکٹیں گرتی رہیں۔
ایک موقع پر سری لنکا کے چار کھلاڑی 78 رنز کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے اور بھارت کی میچ پر گرفت مضبوط تھی۔
تاہم اس موقع پر کمارا سنگاکارا نے پرسنّا کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کے لیے 56 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو 18ویں اوور میں ہی فتح دلوا دی۔
اس دوران سنگا کارا نے اپنی نصف سنچری بھی صرف 31 گیندوں پر مکمل کی۔
اس میچ کے لیے سری لنکن ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور سیکوگے پرسنّا کی جگہ تشارا پریرا کو ٹیم میں جگہ ملی جبکہ بھارت نے سیمی فائنل جیتنے والی ٹیم ہی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔
2007 میں یہ ٹورنامنٹ جیتنے والی بھارتی ٹیم دوسری مرتبہ ان عالمی مقابلوں کے فائنل میں پہنچی ہے۔ بھارت اس ٹورنامنٹ کی واحد ٹیم ہے جو اب تک ایک میچ بھی نہیں ہاری۔
سیمی فائنل میں دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کو ہرانے والی سری لنکن ٹیم کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل کھیلنے کا یہ تیسرا موقع ہے لیکن آج تک وہ فائنل میں فتح کا مزہ نہیں چکھ سکی ہے۔
سری لنکا کو 2009 کے فائنل میں پاکستان نے ہرایا تھا جبکہ دو سال قبل اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر اسے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ فائنل میچ سری لنکا کے دو تجربہ کار بلے بازوں مہیلا جے وردھنے اور کمارسنگاکارا کا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ ہے۔ یہ دونوں بلے باز اس ٹورنامنٹ کے بعد اس طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔

ایپل، سام سنگ کے خراب موبائل مارکیٹ میں

by Unknown  |  in science at  12:36 AM

سام سنگ کا کہنا ہے کہ گیلیکسی ایس فائیو کے کچھ سیٹ ایسے ہیں جن میں کیمرہ کام نہیں کرتا


موبائل فون بنانے والی دو بڑی کمپنیاں ایپل اور سامسنگ نے صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ ان کے چند فونز میں خرابیاں ہیں۔
ایپل نے صارفین سے کہا ہے کہ کچھ آئی فون فائیو میں سلیپ / ویک اپ بٹن میں خرابی ہے اور صارفین یہ فون سیٹ واپس کر کے نیا سیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب سام سنگ کا کہنا ہے کہ گیلیکسی ایس فائیو کے کچھ سیٹ ایسے ہیں جن میں کیمرہ کام نہیں کرتا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ گیلیکسی ایس فائیو کے صارف کا اگر کیمرہ کام نہیں کر رہا تو وہ اپنا سیٹ تبدیل کروا لیں۔
سام سنگ کا کہنا ہے کہ بہت کم تعداد میں ایس فائیو ایسے تھے جن کے کیمرے کام نہیں کر رہے تھے اور وہ غلطی سے مارکیٹ میں بیچنے کے لیے بھیج دیے گئے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس غلطی کی نشاندہی ہو گئی ہے اور اقدامات اٹھائے گیے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی غلطی نہ ہو۔
تاہم سام سنگ نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے موبائل سیٹس میں یہ مسئلہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فون امریکہ اور دیگر چند ممالک میں بھیجے گئے ہیں۔
ایپل کا کہنا ہے کہ بہت کم تعداد میں آئی فون فائیو سیٹس میں سلیپ / ویک اپ بٹن یا تو کام نہیں کرتے یا پھر کبھی کبھار کام کرتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق جن سیٹس میں یہ بٹن خراب ہیں وہ سیٹ مئی 2013 سے قبل تیار کیے گئے تھے۔
ایپل کمپنی نے صارفین کی سہولت کے لیے انٹرنیٹ پر صفحہ بھی تیار کیا ہے جہاں صارفین اپنح آئی فون فائیو کا سیریل نمبر ڈال کر معلوم کرسکتے ہیں کہ آیا ان کا فون خراب سیٹس میں سے ہے یا نہیں۔

پاکستان میں شیعہ اور دیگر اقلیتیں شدت پسندوں کے نشانے پر ہی

by Unknown  |  at  12:24 AM

سنہ 2014 کی رپورٹ میں اس تنظیم نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رکھا ہے جہاں اقلیتوں کو نشانہ     .                                                                                                                                           بنایا جاتا ہے    
اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ صومالیہ اور سوڈان ان ممالک کی فہرست میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں جہاں اقلیتوں کی نسل کشی یا ان کو بڑے پیمانے پر قتل کیا جا رہا ہے۔
مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نامی تنظیم ہر سال ’پیپلز انڈر تھریٹ‘ رپورٹ شائع کرتی ہے جس میں ان ممالک کا ذکر کیا جاتا ہے اور درجہ بندی کی جاتی ہے جہاں پر اقلیتوں کا یا تو بڑے پیمانے پر قتل کیا جا رہا ہو یا پھر نسل کشی۔
سنہ 2014 کی رپورٹ میں اس تنظیم نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رکھا ہے جہاں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ اور مذہبی قتل میں اضافہ ہوا ہے۔
مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے 2014 کی رپورٹ میں کہا ہے ’بین الاقوامی میڈیا کی زیادہ توجہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ حکومتی تصادم کی جانب ہے۔ اور اس وجہ سے پاکستان میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو لاحق خطرات پر سے توجہ ہٹ گئی ہے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ’طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی پاکستان میں اہلِ تشیع اور بالخصوص ہزارہ برادری کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ احمدیوں، عیسائیوں کے خلاف بھی پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔‘
مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈایریکٹر مارک لیٹیمر نے رپورٹ میں کہا ہے ’پاکستان اور برما میں لسانی اور فرقہ وارانہ تشدد ایک بڑا مسئلہ ہے اور ان دو ممالک میں حکومتیں اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں۔‘
مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 میں اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان پانچویں نمبر پر تھا جبکہ 2012 میں پاکستان چھٹے نمبر پر تھا۔
شورش زدہ افغانستان بھی مسلسل کئی سال سے اس فہرست میں پہلے دس ممالک میں شامل رہا ہے۔سنہ 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران طالبان شدت پسندوں نے اپنے حملوں میں انتہائی اضافہ کر دیا تھا۔
جیسا کہ افغانستان کو ممکنہ طور انتشار کا سامنا ہے، پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ کے درمیان نسلی کشیدگی کا خدشہ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق برما نے جو حال میں پانچ دہائیوں تک فوج کی حکمرانی میں رہنے کے بعد جمہوریت کی طرف آیا ہے نسلی اقلیتیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں کی لیکن گذشتہ سال کے مقابلے وہ اس فہرست میں ساتویں نمبر سے آٹھویں پر آ گیا ہے۔
برما کی حکومت نے مسلح نسلی باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے بڑھایا لیکن ملک کے شمالی ریاستوں کچین اور شان تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا برما میں مسلم اقلیت بالخصوص روہینجیا مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز اور نفرت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ سال بدھ بھگشوں کی طرف سے روہینجیا مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھر پور اظہار رائے کی وجہ سے ان کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل سنہ 2005 سے ’پیپلز انڈر تھریٹ‘ کے نام سے سالانہ رپورٹ شائع کر رہی ہے۔

Proudly Powered by Blogger.